اِک نُورِ سرمدی کا حوالہ ہے نعت میں
پھر کیا عجب، جو اِتنا اُجالا ہے نعت میں
جو لفظ بھی لکھے ہیں انہیں زندگی ملی
تکریم و مِدحتِ شہِ والہ ہے نعت میں
پھر بھی بیان اُنؐ کا مکمل نہ ہو سکا
ہر حرفِ نعت ایک مقالہ ہے نعت میں
نِکلے ہیں دائرے سے مفاہیم کس قدر
انوارِ نَو بنے گا جو ہالہ ہے نعت میں
رہنے لگا ہوں قریۂ عشقِ رسول ؐ میں
میں نے تو اپنا آپ بھی ڈھالا ہے نعت میں
ان کی عطا سے یہ کبھی خالی نہیں ہوا
لبریز یہ جو عشق پیالہ ہے نعت میں
آمد کی کیفیات بھی شامل ضرور ہیں
مضمون مَیں نے جو بھی نکالا ہے نعت میں
میں ایک ذرّہ ریت کا، صحرا میںگُم کہیں
اور سامنے وہ کوہِ ہمالہ ہے نعت میں!
